نواز شریف کرپشن پر تیار کی جانے والی جے آئی رپورٹ پر سپریم کورٹ پرسوں سماعت کرے گی

حکمران جماعت پہلے ہی اس رپورٹ کا مسترد کرتے ہوئے اسے عمران نامہ قرار دے چکی ہے , , جے آئی ٹی کی جانب سے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع ہونے کے بعد ملک میں سیاسی درجہ حرارت بھی عروج پر پہنچ چکا ہے اور تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ بھی ذور پکڑ گیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ اتوار جولائی ء) وزیراعظم نواز شریف کی کرپشن پر تیار کی جانے والی جے آئی ٹی رپورٹ پر سپریم کورٹ پرسوں (پیر) سے باقاعدہ سماعت کا آغاز کرے گی،جبکہ حکمران جماعت پہلے ہی اس رپورٹ کا مسترد کرتے ہوئے اسے عمران نامہ قرار دے چکی ہے دوسری جانب جے آئی ٹی کی جانب سے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع ہونے کے بعد ملک میں سیاسی درجہ حرارت بھی عروج پر پہنچ چکا ہے اور تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ بھی ذور پکڑ گیا ہے ،جبکہ وزیراعظم نواز شریف سمیت حکمران جماعت نے استفعے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے جے آئی ٹی رپورٹ کو چیلنج کرتے ہوئے سیاسی اور قانونی لڑائی لڑنے کا فیصلہ کر رکھا ہے ،تفصیلات کے مطابق پانامہ لیکس کے حتمی اور آخری رائونڈ کا آغاز کل پیر سے ہو گا ، جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی پانامہ عملدرآمد بنچ صبح ساڑھے نو بجے کیس کی سماعت کا آغا کرے گا ، جس میں فریقین کی جانب سے جے آئی ٹی رپورٹ پر اعترضات داخل کیے جانے کا امکان ہے ، یا د رہے کہ جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں پانامہ عملدرآمد بنچ پورا ہفتہ مکمل رہے گے جس سے آئندہ ہفتے کیس تسلسل کے ساتھ جاری رہنے کا بھی قوی امکان ہے ، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پانامہ کیس کا یہ رائونڈ آخری اور حتمی ہے اور سپریم کورٹ صرف نااہلی کا فیصلہ نہیں کرے گی بلکہ وزیراعظم کیخلاف مزید تحقیقات کا دائر کار وسیع کرنے کا فیصلہ بھی دیا جا سکتا ہے ، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکمران جماعت کی جانب سے عدالتی کارروائی میں خلل یا ججز کی تبدیلی کے لیے درخواست نہیں دی گئی تو قوی امکان ہے کہ پانامہ کا حتمی رائونڈ آئندہ ہفتے اختتام پذیر ہو جائے گا ،تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں دے گی ، رپورٹ کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد فریقین کے اعتراضات اور پر دلائل سننے کے بعد فیصلہ ہو گا ، ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ فریقین کے دلائل سننے کے بعد جے آئی ٹی رپورٹ کو مسترد یا تسلیم کرنے بارے فیصلہ دے سکتی ہے اگر سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی رپورٹ کو تسلیم کر لیا تو پھر وزیراعظم نواز شریف کو نااہل کرنے سمیت انکے کیخلاف مقدمات چلانے کا حکم بھی دیا جا سکتا ہے ۔

بابر انور عباسی

گوگل + وٹس ایپ پر شئیر کریں