مسلم لیگ (ن) جے آئی ٹی کی رپورٹ بارے تمام قانونی استحقاق استعمال کرے گی ،عدالت عظمی سے سرخرو ہو ںگے،طارق فضل /دانیال عزیز

پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتیں تنقید سے قبل رپورٹ کے مندرجات پر قانونی ماہرین سے مشورہ کر لیں تو بہتر ہو گا، پیپلز پارٹی کے قائدین بینظیر کے نعرے ’جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے‘ کو داغ نہ لگائیں ،مندرجات میں جے آئی ٹی نے وزیراعظم بارے حتمی رائے نہیں دی،میڈیا مندرجات سکرینوں پر دکھائے،کے پی کے میں احتساب پر تالے لگے ہوئے ہیں اور دوسروں پر الزام تراشیاں کی جارہی ہیں، سپریم کورٹ قطری شہزادے سے انویسٹی گیشن نہ کرانے کے معاملہ کا جائزہ لے کیونکہ اس سے ملکیتی شیئر ثابت ہو رہے تھے، مشترکہ پریس کانفرنس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ اتوار جولائی ء)وزیر مملکت کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چودھری اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماء و رکن قومی اسمبلی دانیال عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) جے آئی ٹی کی رپورٹ کے حوالہ سے تمام قانونی استحقاق استعمال کریگی اور عدالت عظمی سے سرخرو ہو گی، پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتیں تنقید سے قبل رپورٹ کے مندرجات پر قانونی ماہرین سے مشورہ کر لیں تو بہتر ہو گا، پیپلز پارٹی کے قائدین بینظیر کے نعرے ’جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے‘ کو داغ نہ لگائیں ،مندرجات میں جے آئی ٹی نے وزیراعظم بارے حتمی رائے نہیں دی، امکان ہے کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں، میڈیا جے آئی ٹی کے مندرجات کو سکرینوں پر دکھائے،کے پی کے میں احتساب پر تالے لگے ہوئے ہیں اور دوسروں پر الزام تراشیاں کی جارہی ہیں،قطری شہزادے سے انویسٹی گیشن نہ کرانے کے معاملہ کا جائزہ لیں کیونکہ اس سے ملکیتی شیئر ثابت ہو رہے تھے۔

ہفتہ کو مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ٹیکس چوری، منی لانڈرنگ، قومی دولت لوٹنے جیسے سات الزامات کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دی لیکن اس حوالہ سے رپورٹ میں ایک لفظ بھی موجود نہیں اور نہ ہی اس سے متعلق الزام جے آئی ٹی کو ملے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چاہئے تو یہ تھا کہ وزیراعظم کے پاکستان میں سیاسی کیریئر کے دوران لگائے گئے منصوبوں میں بدعنوانی کا کوئی الزام ہی ثابت کرتے، جے آئی ٹی نے اختیارات سے ہٹ کر وزیراعظم کے خاندان کو بلایا، سپریم کورٹ کے فیصلہ میں مریم نواز کا نام نہیں تھا لیکن انہیں بھی بلایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ میں چیلنج کے ساتھ کہتا ہوں کہ وزیراعظم محمد نواز شریف اور وزیراعلی محمد شہباز شریف نے ملک کو اربوں روپے کے منصوبے دیئے ،سیاسی حریف ان کے پورے سیاسی کیرئیر میں کرپشن کا کوئی الزام ثابت نہیں کر سکتے، جے آئی ٹی نے اپنے اختیارات سے ہٹ کر تحقیقات کیں اور شریف خاندان کے کاروبار کو 1962ء سے کھنگالا۔ انہوں نے کہا کہ ہم قانونی جنگ لڑیں گے جس کا ہمیں استحقاق حاصل ہے اور ہم عدالت سے سرخرو ہوں گے۔

مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی دانیال عزیز نے کہا کہ ہم نے جے آئی ٹی کے مندرجات کا مفصل جائزہ لیا ہے ،جہاں وزیراعظم محمد نواز شریف کے حوالہ سے جے آئی ٹی کی رائے دی گئی ہے، مے فیئر فلیٹس کا ذکر آیا اس میں امکان ہے کا لفظ استعمال کیا اور کوئی حتمی رائے قائم نہیں کر سکی ، فلیٹ میں ٹھہرنے کو ملکیت کے امکان سے تشبیہ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم حسین پر 230 ارب کی منی لانڈرنگ کا الزام ہے جبکہ ان کی گرفتاری اپنے ہسپتال میں دہشت گردوں کے علاج معالجہ پر ہوئی تھی لیکن بعد میں سلسلہ کھلتا گیا، قمر زمان کائرہ اور اعتزاز احسن سے پوچھتا ہوں کہ وہ کس منہ سے تنقید کرتے ہیں، انہیں میرا مشورہ ہے کہ وہ تنقید سے پہلے جے آئی ٹی کی رپورٹ کا کسی قانونی ماہر سے معائنہ ہی کرا لیں۔

انہوں نے کہا کہ کے پی کے میں احتساب پر تالے لگے ہوئے ہیں اور دوسروں پر الزام تراشیاں کرتے ہیں، پیپلز پارٹی کے قائدین بے نظیر کے اس نعرے کہ جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے، کو داغ نہ لگائیں اور اس رپورٹ کو کم از کم پڑھ لیں، سپریم کورٹ سے بھی اپیل کریں گے کہ وہ رپورٹ کے حتمی مندرجات میں استعمال کئے گئے الفاظ پر ضرور غور کریں اور قطری شہزادے سے انویسٹی گیشن نہ کرانے کے معاملہ کا جائزہ لیں کیونکہ اس سے ملکیتی شیئر ثابت ہو رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ قانونی ٹیم رپورٹ کا مکمل جائزہ لے رہی ہے جس کے بعد اسے چیلنج کر دیا جائے گا۔

گوگل + وٹس ایپ پر شئیر کریں