وزیر اعلی پنجاب نے پشاور ریپڈ ٹرانزٹ سروس کے قانونی معاملات کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کر دی

بی آر ٹی عوامی فلاح کا منصوبہ ہے جس کے مجموعی عمل میں قانونی پیچیدگیوں کی گنجائش ہے اور نہ ہی ہم اس منصوبے کی تعمیر میں رکاوٹوں اور تکمیل میں تاخیر کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ پرویز خٹک , وقت ضائع کئے بغیر سارے عمل کو جلد مکمل کیا جائے،متعلقہ ٹھیکیدار دی گئی گارنٹی کے مطابق کام کرنے کا پابند ہو گا، پشاور جیسے گنجان شہر کیلئے اس منصوبے کی افادیت کو مدنظر رکھ کر تیز رفتاری سے کام کرنا ہوگا، وزیر اعلی خیبر پختونخواہ

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعرات ستمبر ء)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے بس ریپیڈ ٹرانزٹ منصوبے کا پہلا اور دوسرا پیکج کوالیفائیڈ ٹھیکیداروں کو بلا تاخیر حوالے کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ پشاور شہر میں ٹریفک کے مسائل کے کل وقتی حل کے اس میگا پراجیکٹ کی تعمیر پر بروقت کام شروع کیا جا سکے۔ انہوںنے قانونی تقاضوں کے مطابق معاملات کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیاکہ بی آر ٹی عوامی فلاح کا منصوبہ ہے جس کے مجموعی عمل میں قانونی پیچیدگیوں کی گنجائش ہے اور نہ ہی ہم اس منصوبے کی تعمیر میں رکاوٹوں اور تکمیل میں تاخیر کے متحمل ہو سکتے ہیں۔

وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں ریپیڈ ٹرانزٹ منصوبے پر پیش رفت کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ صوبائی وزیر محمد عاطف خان ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری (ایکٹنگ چیف سیکرٹری) اعظم خان، سٹرٹیجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ صاحبزادہ سعید، کمشنر پشاور، محکمہ ٹرانسپورٹ ، پی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے نمائندوں نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے منصوبے کے پہلے دو پیکجز کو الیفائی ٹھیکیداروں کے حوالے کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس سلسلے میں پہلے سے سفارشات دے چکی ہے۔

وقت ضائع کئے بغیر سارے عمل کو مکمل کریں۔ متعلقہ ٹھیکیدار دی گئی گارنٹی کے مطابق کام کرنے کا پابند ہو گا۔ انہوںنے کہاکہ پشاور جیسے گنجان شہر کیلئے اس منصوبے کی افادیت کو مدنظر رکھ کر تیز رفتاری سے کام کرنا ہوگا۔ یہ منصوبہ پشاور میں ٹریفک کے مسائل کا کل وقتی حل ہے اور وقت کی اشد ضرورت بن چکا ہے۔ پشاور میں بڑھتی ہوئی ٹریفک اور سی پیک کے تناظر میں سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کی وجہ سے اس منصوبے کی افادیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔

یہ نہ صرف عوام کو سفر کی بہترین سہولت اور روزگار کے مواقع فراہم کرے گا بلکہ صوبائی دارلحکومت کی خوبصورتی میں بھی خاطرخواہ اضافہ کا موجب ہو گا۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ شہر کے اندر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور عام شہریوں کی آمد ورفت میں رکاوٹوں کے تدارک کی غرض سے ٹریفک کے متبادل راستوں کا حقیقت پسندانہ پلان تشکیل دیا جائے ۔ انہوںنے واضح کیا کہ پراجیکٹ پر کام شروع ہوتے ہی ٹریفک ڈائیورژن پلان بلاکسی تعطل کے گرائونڈ پر ہونا چاہیے تاکہ ٹریفک کے کم سے کم مسائل ہوں اور آمدورفت کا سلسلہ برقرار رہے نیز اس ضمن میں شہریوں کی مشکلات کم سے کم سطح پر لائی جاسکیں ۔

گوگل + وٹس ایپ پر شئیر کریں