میٹرو ٹرین کی بوگیوں کی پہلی کھیپ پرسوں کراچی پہنچے گی‘ اگلے ماہ کے پہلے ہفتے کے دوران لاہور آئے گی‘ خواجہ احمد حسان

ٹرین چلانے کے لئے چین سے آپریشن اینڈمینٹی نینس انجینئرز کی ٹیم پہلے ہی لاہور پہنچ چکی ہے ،بوگیوں کی پہلی کھیپ کی لاہور آمد کے موقع پر ایک شاندار تقریب منعقد کی جائے گی ‘وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر اور سٹیرنگ کمیٹی کے چیئرمین کی زیر صدارت اجلاس

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعرات ستمبر ء)وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر اور سٹیرنگ کمیٹی کے چیئرمین خواجہ احمد حسان نے کہا ہے کہ میٹروٹرین کے لئے بوگیوں کی پہلی کھیپ پرسوں (جمعہ )15ستمبر کو چین سے کراچی پہنچے گی اور اگلے ماہ کے پہلے ہفتے کے دوران لاہور آئے گی ۔ٹرین چلانے کے لئے چین سے آپریشن اینڈمینٹی نینس انجینئرز کی ٹیم پہلے ہی لاہور پہنچ چکی ہے،منصوبے کے تحت کل 27ٹرینیں چلائی جائیں گی، ہر ٹرین پانچ بوگیوں پر مشتمل ہو گی، رواں سال کے آخر تک چین سے 23ٹرینوں کی بوگیاں لاہو رپہنچیں گی ، بوگیوں کی پہلی کھیپ کی لاہور آمد کے موقع پر ایک شاندار تقریب منعقد کی جائے گی ، اس مقصد کے لئے ڈیرہ گجراں میں تعمیر کئے جانے والے ڈپو اور رائے ونڈ روڈ پر بنائے جانے والے سٹیبلنگ یارڈ میں تمام انتظامات کو جلد ازجلد حتمی شکل دی جائے ،اورنج لائن میٹرو ٹرین کے 26میں سی24سٹیشنوں کا تعمیراتی کام مکمل کر لیا گیا ہے ۔

وہ گزشتہ روز اورنج لائن منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے سلسلے میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں چیف انجینئر ایل ڈی اے اسرار سعید‘ چیف انجینئرٹیپا سیف الرحمن‘ جنرل منیجر نیسپاک سلمان حفیظ اور لیسکو‘پی ٹی سی ایل ‘سوئی گیس ‘ ریلوے‘ ٹریفک پولیس ‘سول ڈیفنس‘ریسکیو112 اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلی افسران کے علاوہ منصوبے کے چینی کنٹریکٹر سی آر نورنکو اور چائنہ انجینئر نگ کنسلٹنس کے نمائندوں اور مقامی کنٹریکٹرز نے شرکت کی ۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ مجموعی طور پر منصوبے کا74.2فیصد تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے -ڈیرہ گجراں سے چوبرجی تک پیکیج و ن کا 86.1فیصد‘ چوبرجی سے علی ٹائون تک پیکیج ٹو کا53.4فیصد ‘پیکیج تھری ڈپوکا.2 79فیصد جبکہ پیکیج فور سٹیبلینگ یارڈ کی تعمیر کا 75.2فیصد کام مکمل کیا جا چکا ہے ۔اس کے علاوہ منصوبے کا18فیصد الیکٹریکل و مکینکل ورکس بھی مکمل کر لیا گیا ہے ۔اجلاس کو بتایا گیاکہ علی ٹائون سے چوبرجی تک اورنج لائن میٹرو ٹرین پیکیج ٹو کا تعمیراتی کام تسلی بخش طور پر جاری ہے ‘اس حصے میںٹرین کے بالائے زمین ٹریک کی تعمیر کے لئی30میٹر لمبے‘5.5میٹر چوڑے اور 216ٹن وزنی806یو ٹب گرڈرز مقامی طور پر تیار کئے جا رہے ہیں‘ ابھی تک270یو ٹب گرڈرز نصب کئے جا چکے ہیں جن پر ٹرین کی پٹری بچھائی جائے گی ۔

ان کی تنصیب سے 40فٹ بلندی پر تعمیر کئے جانے والے میٹر و ٹرین کے راستے کی شکل واضح ہونا شروع ہوجائے گی ۔خواجہ احمد حسان نے ہدایت کی کہ میٹرو ٹرین کے سٹیشنوں کے نیچے سے جلد از جلد ملبہ ہٹایاجائے اور دیگر رکاوٹیں دور کی جائیں تاکہ سڑکوں کو ٹریفک کی آمد و رفت کے قابل بنایا جائے ۔ سٹیشنوں پر نصب کئے جانے والے برقی آلات اور دیگر تنصیبات کی ویئر ہائوس سے ان مقامات تک منتقلی کے لئے ٹریفک پولیس اور حفاظت کے لئے مقامی پولیس اپنے اہلکار تعینات کریں۔خواجہ احمد حسان نے ہدایت کی کہ میٹر ٹرین پراجیکٹ پرفاسٹ ٹریک پر کام کیا جا ئے اور اس مقصد کے لئے مختصر ٹائم لائنز مقر ر کر کے منصوبے کو ایک چیلنج کے طور پر مکمل کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے چینی کنٹریکٹر سی آر نورنکو کوہدایت کی کہ الیکٹریکل و مکینکل ورکس تیزی سے مکمل کرنے کے لئے افرادی قوت کی تعداد میں اضافہ کیا جائے ۔

گوگل + وٹس ایپ پر شئیر کریں