اتحاد علماء افغانستان کا امریکی صدر کی نئی پالیسی میں پاکستان کیخلاف دھمکیوں اور جنگ کے اعلان پر اظہار تشویش

پاکستان کی افغان عوام کیلئے قربانیوں کو کبھی بھی فراموش نہیں کر سکتے ،ہر مشکل میں پاکستان کاساتھ دینگے , ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان کیلئے نئی پالیسی کے اعلان کے بعد جنگی جہازوں کی بمباری کے واقعات میںعام لوگوں کو نشانا بنایا گیا ، کابل انتظامیہ کی خاموشی انتہائی افسوسناک ہے،بیان

کندھار(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعرات ستمبر ء)اتحاد علماء افغانستان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان کیلئے نئی پالیسی کے اعلان کے بعد جنگی جہازوں کی بمباری کے کئی تازہ واقعات میںعام لوگوں کو نشانا بنایا گیا ہے ۔ مفتی محمود الزاری کی صدارت میں ہونیوالے اجلاس میں امریکی افواج کی جانب سے کلمہ طیبہ کی بے حرمتی کی بھی مذمت کی گئی اور اس فعل پر کابل انتظامیہ کی خاموشی کو انتہائی افسوسناک قرار دیا۔

اجلاس کے بعد منگل کو جاری کئے گئے بیان کے مطابق امریکی صدر کی پالیسی میں ایک طرف جنگ جاری رکھنے کا اعلان کر کے افغانستان کو مزید تباہی کی طرف دھکیلا اور دوسری طرف اپنی ناکامی چھپانے کیلئے نئی پالیسی میں پاکستان کے مسلمانوں کیخلاف بھی دھمکیاں اور جنگ کا اعلان کیا ہے ۔ اتحاد علماء افغانستان نے کہا کہ پاکستانی عوام ان دھمکیوں کی تناظر میں اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے علماء پاکستانی مسلمانوں کے افغانستان کی عوام کیلئے قربانیوں کو کبھی بھی فراموش نہیں کر سکتے اور ہر مشکل میں پاکستان کاساتھ دینگے۔

انہوں نے کہاکہ اتحاد علماء افغانستان پاکستان کے مسلمانوں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ اس مشکل وقت میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، انہوں نے کہا کہ جس طرح پاکستانی مسلمانوں نے افغانستان کے لوگوں کا ساتھ دیا ہے تو ہم بھی ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دینگے ۔اجلاس میں برماء میں مسلمانوں کیخلاف ظلم وزیادتی کی مذمت کی گئی۔اجلاس میں کہا گیا کہ برما کے مسلمانوں کی مدد تمام عالم اسلام پر واجب ہے، اجلاس میں مسلمان حکمرانوں کی بے حسی پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ انہوں نے اب تک برما کے مسلمانوں پر ظلم وزیادتی کیخلاف موثر آواز نہیں اٹھائی۔

گوگل + وٹس ایپ پر شئیر کریں