پانامہ کیس کے خلاف اپیل ، سپریم کورٹ نے 5 رکنی بنچ کی تشکیل کی استدعا منظور کر لی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 12 ستمبر 2017ء): پانامہ کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کے لیے 5 رکنی بنچ کی تشکیل کی استدعا منظور کر لی گئی ہے ۔ درخواست کو سماعت کے لیے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کو بھجوا دی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پانامہ کیس فیصلے پر نواز شریف اوران کےبچوں کی نظر ثانی اپیل کی سپریم کورٹ میں جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر سابق وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ جو ججز اس بنچ کے ممبرز ہی نہیں تھے انہوں نے بھی پانامہ کیس کا فیصلہ سنایا۔

لہٰذا 5 رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل پہلے سنی جائے ۔ جس پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ آپ کی نظر ثانی اپیل میں سارے گراؤنڈز 3 رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف ہیں۔

جبکہ پانامہ کیس میں اکثریتی فیصلہ 3 رکنی بینچ کا تھا۔ اس پر سابق وزیر اعظم کے بچوں سلمان اکرم راجا نے کہا کہ میں نے نظر ثانی درخواست میں فیصلے کے خلاف بنیادی سوالات اُٹھائے ہیں۔3رکنی بنچ کا فیصلہ 5رکنی بنچ کے فیصلے میں ضم ہوگیا تھا۔

3رکنی بنچ سے ریلیف مل بھی جائے تو بھی 5رکنی بنچ کا فیصلہ برقرار رہے گا۔ ہماری استدعا ہے 5رکنی بنچ نظرثانی اپیل کی سماعت کرے۔ سماعت کے دوران سلمان اکرم راجا نے مؤقف اختیار کیا کہ 28 جولائی کو فیصلہ 5 رکنی لارجر بنچ نے دیا تھا اس لیے نظر ثانی اپیل بھی 5 رکنی بنچ میں لگائی جائے اور اس کے لیے 5 رکنی لارجر بنچ تشکیل دیا جائے۔ جس پر عدالت نے5 رکنی بنچ کی تشکیل کی استدعا منظورکرتے ہوئے کیس کی زمید سماعت کل تک ملتوی کردی ۔

گوگل + وٹس ایپ پر شئیر کریں