توہین عدالت کیس ‘طلال چوہدری کو19فروری تک وکیل کرنے کی مہلت

اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔13 فروری۔2018ء)سپریم کورٹ نے عاصمہ جہانگیر کی وفات کے باعث طلال چوہدری کو نیا وکیل کرنے کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت19فروری تک ملتوی کردی ہے۔منگل کو سپریم کورٹ میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما اور وزیر مملکت طلال چوہدری کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی، کیس کی سماعت جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس مقبول باقر اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کی۔

اس موقع پر طلال چوہدری نے عدالت عظمی کو بتایا کہ ان کی وکیل عاصمہ جہانگیر کا انتقال ہوگیا ہے، لہذا عدالت نیا وکیل کرنے کی مہلت دے ، جس پر عدالت نے وزیر مملکت کی استدعا منظور کرتے ہوئے انہیں نیا وکیل کرنے کی مہلت دی اور کیس کی سماعت19 فروری تک ملتوی کردی ہے۔

گزشتہ سماعت کے موقع پر طلال چوہدری عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئے اور استدعا کی کہ وکیل کرنے کے لیے تین ہفتے کی مہلت دی جائے، جس پر عدالت نے وزیر مملکت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں ایک ہفتے کی مہلت دی اور کیس کی سماعت آج تک کے لیے ملتوی کردی تھی۔

یکم فروری کو عدلیہ مخالف تقریرپرچیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے طلال چوہدری کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے 6 فروری کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری کوعدلیہ مخالف تقریر پر آرٹیکل 184 تین کے تحت چیف جسٹس ثاقب نثار نے توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔طلال چودھری کو وکیل کرنے کے لیے مانگی گئی تین ہفتے کی مہلت کے جواب میں ایک ہفتے کی مہلت دی گئی تھی‘ طلال چودھری جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے سامنے پیش ہوں گے۔واضح رہے طلال چودھری نے گوجرانوالہ کے جلسے میں مبینہ طور پر ججز کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی تھی۔اس سے قبل بھی جے آئی ٹی اور عدلیہ کو نشانہ بنانے پر سپریم کورٹ نے طلال چودھری کی تقریروں کی ٹرانسکرپٹ اٹارنی جنرل کو عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔

گوگل + وٹس ایپ پر شئیر کریں