بی آئی ایس پی اوپی پی اے ایف کے درمیان غربت کے خاتمہ اور پاورٹی گریجویشن حکمت عملی پر عملدرآمد کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

مجموعی طور پر 20لاکھ سے زائد افراد پر مشتمل 3لاکھ 20ہزار گھرانے شراکت داری سے مستفید ہوسکیں گے , ْامید ہے اشتراک کی بدولت ہم غربت کیخلاف پائیدار ترقیاتی اہداف کو حاصل کریں گے،ماروی میمن

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مارچ2018ء) بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) اور پاکستان پاورٹی الیویشن فنڈ (پی پی اے ایف) کے درمیان پاکستان سے غربت کے خاتمہ اور پاورٹی گریجویشن حکمت عملی پر عملدرآمد کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوگئے ۔ مجموعی طور 2ملین سے زائد افراد پر مشتمل 320,000 گھرانے اس شراکت داری سے مستفید ہونگے اس کے اہم مقاصد میں سماجی تحریک شامل ہے اور پاورٹی اسکور کارڈ کو استعمال کرتے ہوئے مستحقین کی شناخت کی جائیگی۔

دونوں اداروں نے غریبوں کو غربت سے باہر نکالنے کیلئے باہمی تعاون کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا۔اس موقع پر چیئرپرسن بی آئی ایس پی ماروی میمن نے کہا کہ مجھے امید ہے ہم اس اشتراک کی بدولت غربت کیخلاف پائیدار ترقیاتی اہداف کو حاصل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پائلٹ اضلاع میں سروے کے ذریعے حاصل کیا جانے والا این ایس ای آر کا ڈیٹا اس پروگرام کیلئے بھی مہیا کیا جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی یہ اشتراک مستحقین کو غربت سے باہر نکالنے کے مقصد کے حصول کیلئے مددگار ثابت ہو گا۔

ایف اے ڈی اور حکومت پاکستان کے ساتھ اشتراک سے پی پی اے ایف پاکستان بھر کے 17اضلاع میں نیشنل پاورٹی گریجویشن پروگرام (این پی جی پی) پر عملدرآمد کر رہا ہے۔ این پی جی پی کا مقصد انتہائی غریب افراد کو غربت سے باہر نکالنا، مجموعی طور پر خوراک، غذائی معیار اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے تحفظ فراہم کرناہے۔ مفاہمتی یادداشت کے مطابق، غربت کے خاتمے کیلئے مشترکہ کوششوں پر اتفاق شامل ہے۔ پاورٹی گریجویشن ماڈل پر تقریباً 130.98 ملین امریکی ڈالر کی لاگت آئے گی جس میں اثاثہ تخلیق، بلاسود قرضہ اور روزگار کی تربیت شامل ہے ۔

این پی جی پی ملک کی 372یونین کونسلو ں میں156,240 گھرانوں کو اثاثوں کی تقسیم کی اجازت دیتا ہے۔ سیکرٹری بی آئی ایس پی، جناب عمر حمید خان نے کہا کہ ہمیں پی پی اے ایف کے ساتھ شراکت داری کی بہت خوشی ہے اور ہم ملک میں غربت کے خاتمہ کیلئے پی پی اے ایف کی جانب سے کی جانے والی کاوشوں کا اعتراف کرتے ہیں، بالخصوص کم آمدنی والوں کومائیکرو فنانس کی فراہم پی پی اے ایف کا اہم اقدام ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ شراکت داری غربت کے خاتمے کی جانب ایک نیا قدم ہو گا۔

انہوں نے مزید تجویز پیش کی کہ بی آئی ایس پی اور پی پی اے ایف کی ریسر چ ٹیمیوں کو ڈیٹا اکٹھا کرنے اور اس کے اشتراک، نگرانی، تشخیص اور تحقیق پر مل کر پاورٹی گریجویشن پروگرام کے اثرات کا جائزہ لینا چاہئے۔ پی پی اے ایف کے سی ای او قاضی عظمت عیسیٰ نے کہا کہ ہم اس پروگرام کے ذریعے معاشرے کے پسماندے طبقات کو غربت سے باہر نکالنے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے مرد و خواتین کی معاشی بہتری کو یقینی بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت77ممالک غربت کے خاتمہ کی اس حکمت عملی کو اپنا رہے ہیں۔ سینئر گروپ ہیڈ پی پی اے ایف سیمی کمال نے امید ظاہر کی کہ شراکت داری غربت کے حوالے سے ترقیاتی اہداف کے حصول میں مدد کرے گی۔156,240 گھرانے جو ملازمت یا کاروبار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ان کیلئے مخصوص پیکیج ہوگا جس کے 467 امریکی ڈالے فی گھرانے کو دیئے جائیں گے اوراس کی مجوعی لاگت 73.53 ملین امریکی ڈالر ہوگی۔ پی پی اے ایف کے اپنے مائیکرو فنانس نظام کے تحت بلاسود قرضو ں کی فراہمی ضرورت مند افراد کو کی جائے گی۔

یہ اقدام 50.08 ملین امریکی ڈالر کے ذریعے ہو گا جس کے تحت افراد میں کاروباری صلاحیتوں کو اجاگر کیا جائے گا۔ روزگارکیلئے تربیتی پروگرام کے تحت مستحقین کو مالیاتی سمجھ بوجھ کے حوالے سے تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اس سے زیادہ سے زیادہ فائد ہ حاصل کرسکیں۔ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 7.19 ملین امریکی ڈالر ہے۔

گوگل + وٹس ایپ پر شئیر کریں