آج کی دنیا اختراعات اور ایجادات کی دنیا ہے،چاند پر انسان کا پہنچنا 20ویںصدی کی ترقی کا ایک مظہر ہے،گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 اپریل2018ء) گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے کہا ہے کہ آج کی دنیا اختراعات اور ایجادات کی دنیا ہے۔ چاند پر انسان کا پہنچنا 20ویںصدی کی ترقی کا ایک مظہر ہے ہم ٹیکنالوجی کے انقلاب سے استفادہ کرتے ہوئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے حیران کن عہد میں داخل ہورہے ہیں دنیا کے ساتھ ہم قدم ہونے کیلئے ہمیں نئی نسل کو غیر معمولی اہلیت اور خاص طور سے سائنسی علوم تجربہ اور لیاقت منتقل کرنا ہوگا ۔

ان خیالات کا اظہار آئی ٹی یونیورسٹی میں منعقد انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی ترقی پر فرسٹ انٹرنیشنل کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس عالمی کانفرنس میں قومی اور بین الاقومی سطح کے 75 ماہرین و محققین نے شرکت کی۔ انہو ں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں انقلاب اور اس کے ثمرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے آج دنیا سمٹ کر ایک ہوگئی اور ایک عام آدمی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال سے پوری دنیا سے نہ صرف مربوط ہے بلکہ ایک کلک پر دنیا بھر کی جدید علم و تحقیق سے اپنے ذہن کو روشن کرسکتا ہے۔

انہو ں نے کہا کہ ٹیکنالوجی زندگی کو مختلف شعبوں کو متاثر کرنے کے علاوہ خود بھی نت نئی تبدیلی اختیار کررہی ہے ۔ انہو ں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ سائنسدان اور انجینئرز عام آدمی کی زندگی کے مسائل و مشکلات کو حل کرنے میں فعال کردار ادا کرینگے اور ایک روشن مستقبل کی تعمیرمیں فکر ی رہنمائی بھی فراہم کرینگے ۔ انہو ں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ سائنسی ترقی اور ایجادات پر آج بھی چند ترقیاتی یافتہ ملکوں کی اجارہ داری ہے جبکہ ایشاء ، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک آج بھی سائنسی ترقی کے ثمرات سے محروم ہیں ۔

گورنر بلوچستان نے کہا کہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کرنے والے ملکوں نے اگر دنیا کے دیگر ممالک خاص طور سے ترقی پذیر ملکوں کو اس عمل میں شریک نہیں کیا تو دنیا کا بڑا حصہ ان سے پیچھے اور پسماندہ رہ جائیگا ۔ انہو ں نے دیگر ملکوں میں ترقی کے مظاہرکا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج ایندھن کے متبادل ذرائع تلاش کئے جارہے ہیں یہاں تک کہ ہوائی جہاز بھی سولر انرجی کے ذریعے اڑ ائے جارہے ہیں جبکہ مختلف سماجی کا موں کیلئے روبوٹ کا استعمال عام ہورہا ہے یہاں تک کہ بعض ممالک میں روبوٹ نرسیں بھی موجود ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہماری یونیورسٹیوں کا نظام دو سوسال پرانا ہے لیکن آج بھی بین الاقومی معیار سے بہت پیچھے ہیں اور فر سودہ طریقوں سے چمٹا ہواہے جس کی وجہ سے وہ پل پلبدلتی دنیا کے ساتھ چلنے سے قاصر ہیں ۔ ہمارے ہاں شرح خواندگی پچاس فیصد ہے ہمیں نہ صرف یونیورسٹی کی سطح پر بلکہ پر ائمری کی سطح پر بھی اپنے تعلیمی نصاب کو از سر نو دیکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ گورنر نے انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی ترقی کے حوالے سے فرسٹ انٹرنیشنل کانفرنس 2018 کے انعقاد اورماہرین و محقیق کے پر معزز ریسرچ پیپرز کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کامیاب عالمی کانفرنس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے ۔

اور طلباء و طالبات کو آپ کے علم و تجربے سے بھر پور استفادہ کرنے کا موقع فراہم کرناہوگا انہو ں نے کہا کہ سیمینار کا موضوع عہد حاضر کے مطابق اور متعلق ہے جس ے پالیسی بنانے میں مدد ملے گی ۔ قبل ازیں وائس چانسلر بیوٹمز نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور انٹر نیشنل کانفرنس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی ۔ آخر میں گورنر بلوچستان نے کانفرنس میں شریک ریسرچرز اور سائنسدانوں میں یادگاری شیلڈز تقسیم کئے ۔

گوگل + وٹس ایپ پر شئیر کریں