وفاقی کابینہ نے جمعہ 6 اپریل کو یوم یکجہتی کشمیر منانے، مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کے لئے اہم ممالک میں وفود بھجوانے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و جبر کو انسانی حقوق کونسل میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے،

, مقبوضہ کشمیر میں گجرات کے مسلمانوں کے قتل و عام جیسی تاریخ دہرائی جا رہی ہے، گزشتہ دو روز میں کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی، بھارتی حکمرانوں نے اپنے اقدامات سے ثابت کیا ہے کہ وہ خود دہشت گرد ہیں، بھارت پاکستان سے تعلقات میں بہتری کے لئے سنجیدہ نہیں، تمام سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر پر متحد ہیں، دنیا کے تمام فورمز کو مسئلہ کشمیر پر فعال کرنے کی کوشش کریں گے، برہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں 1500 آپریشنز میں 534 کشمیریوں کو شہید کیا گیا ہے، پاکستان پر جنگ مسلط کی گئی تو مسلح افواج اس کا بھرپور جواب دیں گی , وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 اپریل2018ء) وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے جمعہ 6 اپریل کو یوم یکجہتی کشمیر منانے، مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کے لئے اہم ممالک میں وفود بھجوانے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و جبر کو انسانی حقوق کونسل میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، مقبوضہ کشمیر میں گجرات کے مسلمانوں کے قتل و عام جیسی تاریخ دہرائی جا رہی ہے، گزشتہ دو روز میں کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی، بھارتی حکمرانوں نے اپنے اقدامات سے ثابت کیا ہے کہ وہ خود دہشت گرد ہیں، بھارت پاکستان سے تعلقات میں بہتری کے لئے سنجیدہ نہیں، تمام سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر پر متحد ہیں، دنیا کے تمام فورمز کو مسئلہ کشمیر پر فعال کرنے کی کوشش کریں گے، برہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں 1500 آپریشنز میں 534 کشمیریوں کو شہید کیا گیا ہے، پاکستان پر جنگ مسلط کی گئی تو مسلح افواج اس کا بھرپور جواب دیں گی۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کو اسلام آباد میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد خواجہ آصف نے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم نے ایک نکاتی ایجنڈے پر وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کیا تھا، اجلاس میں متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں دہشتگردی کررہا ہے، معصوم کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔

بھارتی فوج کشمیریوں کی نسل کشی کررہی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کی ترکی اور ایران کے وزیر خارجہ سے بات ہوئی ہے اور بھی وزرائے خارجہ سمیت سیکرٹری جنرل او آئی سی سے بھی بات ہوگی۔ ماضی میں بھی ترکی اور ایران نے مسئلہ کشمیر پر ہماری مدد کی ہے۔ باقی اسلامی ممالک سے بھی درخواست کرینگے کہ وہ کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کریں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ گزشتہ سال لائن آف کنٹرول کی 2000 سے زائد مرتبہ جنگ بندی کی خلاف وزیاں کی گئیں۔

دو ایٹمی ممالک میں ایسی کشیدگی کا ہونا انتہائی خطرناک ہے۔ بھارتی فورسز نے گزشتہ دو دنوں میں مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلی۔ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر جلد عمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کونسل میں بھی ہم اس مسئلے کو اٹھا رہے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل میں بھی آواز اٹھائی جائے گی تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ بھارت کیسے ظلم کررہا ہے۔

وہ کشمیر میں مسلمانوں کی خون ریزی کررہا ہے جو برداشت نہیں کی جائے گی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم اس مشکل وقت میں کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، ہمیں اس سلسلے میں جو بھی کرنا پڑا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ برہان وانی کی شہادت کے بعد 1500آپریشنز بھارتی فوچ نے مقبوضہ وادی میں کئے ہیں۔ جن میں 534 شہادتیں ہوئیں، 21 ہزار 183 افراد زخمی ہوئے 8 ہزار 424 لوگوں کو پیلٹ گن سے بینائی سے محروم کیا گیا، 65 ہزار 861 گھروں کو مسمار کیا جا چکا ہے، 19ہزار 230 افراد ابھی تک بھارتی افواج کی حراست میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسکے باوجود کشمیریوں کاآزادی کا جذبہ ٹھنڈا نہیں بلکہ اور تیز ہوا ہے، وہاں پاکستان سے محبت کا اظہار کیا جاتا ہے اور شہیدوں کو پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا جاتا ہے۔ آسیہ اندرابی کا پیغام آیا ہے کہ کشمیر کی مساجد میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگ رہے ہیں۔ تاریخ میں ایسی مثال نہیں ملتی۔ خواجہ محمد آصف نے کہا کہ کشمیری قربانیاں دے کر پاکستان سے محبت کا اظہار کررہے ہیں۔ پاکستانی قوم پر یہ لازم ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرے۔

تاکہ انکو ایسے محسوس نہ ہو کہ ہمارے جذبے میں کمی ہے۔ ہم اپنے بھائیوں کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے اور 6 اپریل کو بھرپور طریقے سے یوم یکجہتی کشمیر منائیں گے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ غزہ میں بھی ظلم بربریت کے پہاڑ توڑے گئے ہیں، اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو یکجا کرے اور مسلم حکمرانوں میں اتفاق پیدا کرے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاسی تنائو ہر ملک میں رہتا ہے مگر اس سے مسئلہ کشمیر کو متاثر نہیں ہونے دینگے اور اس معاملے پر سب ایک ہیں۔

بھارت کے تعلقات اگر دوسرے ممالک سے اچھے ہیں توہمارے بھی دوسرے ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ یورپین یونین کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں، امریکہ کے ساتھ تعلقات پر بھی توجہ دے رہے ہیں اور پاکستان تمام ممالک کے ساتھ تعلقات میں پاکستان کے مفاد کو سرفہرست رکھے گا، ماضی میں اس پر سمجھوتا کیا گیا مگر اب ایسا نہیں ہوگا، تمام سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر پر متحد ہیں۔ بھارت میں حکمران خود ہی دہشتگرد ہیں، بھارت نے اپنے اقدامات سے یہ خود ثابت کیا ہے۔

ہم نے گزشتہ 4سال میں بھارت کے ساتھ حالات بہتر کرنے کی کوشش کی لیکن ہمیں مایوسی ہوئی۔ بھارت سرکار کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں پر ظلم ڈھا کر اپنا ووٹ بنک بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارتی سیاستدانوں سے خیر کی توقع نہیں، اگر خدا نخواستہ کوئی سنگین صورتحال پاکستان پر مسلط کی گئی تو مسلح افواج وطن عزیز کے دفاع کے لئے تیار ہیں۔ ہماری خارجہ پالیسی کے تحت روس کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے جارہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حریت رہنماء ہمارے لئے محترم ہیں۔ تمام لوگ جو کشمیر کی آزادی کی آواز اٹھا رہے ہیں وہ سب ہمارے لئے محترم ہیں۔ اقوام متحدہ میں جو بھی قراردادیں منظور ہوئی ہیں ان پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔

گوگل + وٹس ایپ پر شئیر کریں